31 اگست 2013 - 19:30

دنيا کے سب سے بڑے فوجي اتحاد نيٹو نے بھي جس کا امريکا بنيادي رکن ہے، شام پر حملے ميں امريکا کا ساتھ دينے سے انکار کرديا ہے ۔

ابنا: نيٹو کے سيکريٹري جنرل اينڈرس فوگ راسموسن نے اعلان کيا ہے کہ شام ميں کيميائي اسلحے کے استعمال پر بين الاقوامي ردعمل ضروري ہے ليکن نيٹو اس ردعمل ميں شامل نہيں ہوگا۔ انہوں نے يہ اعلان ايسے وقت ميں کيا ہے  جب اس سے پہلے خبروں ميں بتايا گيا تھا کہ نيٹو کے رکن بارہ ملکوں نے شام کے خلاف فوجي کاروائي کي مخالفت کا اعلان کيا ہے ۔ رپورٹوں کے مطابق نيٹو کے رکن بارہ ملکوں نے شام پر حملے کي مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام ميں فوجي مداخلت کے نتائج سے چشم پوشي نہيں کرني چاہئے اور شام پر حملے سے اس ملک ميں قيام امن کا کوئي امکان نہيں ہے ۔شام پر حملے کے امريکي منصوبے کے تعلق سے نيٹو کا يہ موقف ايسي حالت ميں سامنے آيا ہے کہ برطانوي پارليمنٹ کي کھلي مخالفت کے بعد برطانيہ کي حکومت بھي اعلان کرچکي ہے کہ شام کے خلاف فوجي کاروائي ميں شرکت نہيں کرے گي ۔

ليکن فرانس کے صدر فرانسوا اولينڈ نے اعلان کيا ہے کہ وہ شام کے خلاف فوجي کاروائي ميں امريکا کا ساتھ ديں گے ۔ انہوں نے يہ اعلان ايسي حالت ميں کيا ہے کہ دو دن قبل ، پيرس ميں شام کے مخالف اتحاد کے سربراہ احمد جربا سے ملاقات کے بعد انہوں نے شام کے بحران کے سياسي اور سفارتي حل پر زور ديا تھا ۔ اس کے علاوہ پيرس ميں عوام نے وسيع مظاہرہ کرکے شام کے خلاف فوجي کاروائي کي مخالفت کي ہے اور اپني حکومت سے مطالبہ کيا ہے کہ شام کے خلاف امريکا کے جارحانہ منصوبے سے الگ رہے ۔ اس کے ساتھ ہي برطانيہ، اٹلي، يونان اور  اسپين سميت اکثر يورپي ملکوں ميں عوام نے، شام پر مجوزہ حملے کے خلاف  وسيع پيمانے پر مظاہرے کئے ہيں اور يورپي ملکوں ميں شام کے خلاف فوجي مداخلت کي مخالفت ميں مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے ۔ اس درميان امريکا کو جو يورپي ملکوں اور  سب سے زيادہ برطانيہ کے بھرپور تعاون کي اميد لگائے بيٹھا تھا برطانوي پارليمنٹ کي کھلي مخالفت کے بعد سخت مايوسي کا سامنا ہوا ہے اور اس مسئلے ميں وہ تقريبا الگ تھلگ ہوکے رہ گيا ہے ۔

.......

/169